اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 4شعبان المعظم یوم ولادت حضرت عباس ؑ کے موقع پر کہا کہ حضرت عباس ؑ ابن علی ؑ دنیا میں وفاشعاری اور جانثاری کا اعلی نمونہ تھے ۔ جس طرح امیر المومنین علی ابن ابی طالب نے پیغمبر گرامی کے ساتھ وفاشعاری کی داستانیں رقم کیں اسی طرح حضرت عباس ؑ نے نواسہ پیغمبر کے ساتھر محبت اور وفا کے تمام تقاضے پورے کئے۔ ان کی شخصیت جبر و آمریت اور ظلم و بربریت کے خلاف قیام کا استعارہ ہے اور حق پرستوں اور وفا شعاروں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ اور روشنی کا مینار ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ حضرت عباس ؑ کی زندگی کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے والد گرامی امیر المومنین کے تربیت یافتہ تھے ‘ شجاعت بہادری کے ساتھ ساتھ علم و کمال اور زہد و تقوی میں بھی خاص مقام رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہیں مرد فقیہ اور عبد صالح جیسے القابات سے نوازا گیا۔ آپ کی والدہ گرامی ام البنین تھیں جن کا تعلق ایک بہادر قبیلے بنو کلاب سے تھا، واقعہ کربلا میں لشکر حسینی ؑ کے سپہ سالار کی حیثیت سے جرات و بہادری اور دلیری و وفاشعاری کی لازوال داستان حضرت عباس ؑ نے رقم کی ۔حضرت عباس ؑ نے اپنے والد گرامی کی سرپرستی میں ہر موقع پر صف اول میں مجاہدانہ کردار ادا کیا اور شجاعت و بہادری کے ساتھ ساتھ علم و حکمت کے بھی جوہر دکھائے جن سے استفادہ کرکے آج بھی اپنی انفرادی واجتماعی زندگیوں کو سنواراجاسکتا ہے۔قائد ملت جعفریہ نے اس پرمسرت موقع پر عالم اسلام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ اگر اسلامی افواج کے سپہ سالار حضرت عباس ؑکے کر دار ، دلیری اور وفاشعاری کو جو واقعہ کربلا کے بعد ضرب المثل بن چکی اپنائیں تو ظلم و جبر اور دشمن قوتوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242